| حیا نے اس کی آنکھوں کو بنایا منفرد ہے |
| کہ پلکوں پر یہ تل ظالم بٹھایا منفرد ہے |
| پکارا کیجئے دن میں ہزاروں بار مجھ کو |
| حسیں ہونٹوں پے میرا نام آیا منفرد ہے |
| سبھی کو دو عدد کر کے بنایا ہے خدا نے |
| اکیلی ذات کا خود دکھ اٹھایا منفرد ہے |
| اڑا کر لے گئی آندھی ہے چڑیا کا حسیں گھر |
| درختوں نے یہاں ماتم منایا منفرد ہے |
| سبھی آ کر کے غم میں ساتھ بیٹھے اور روئے |
| خدا نے موت کا رشتہ بنایا منفرد ہے |
| زمیں آداب فرزندی کا مطلب جانتی ہے |
| علی نے بو ترابی نام پایا منفرد ہے |
معلومات