حیا نے اس کی آنکھوں کو بنایا منفرد ہے
کہ پلکوں پر یہ تل ظالم بٹھایا منفرد ہے
پکارا کیجئے دن میں ہزاروں بار مجھ کو
حسیں ہونٹوں پے میرا نام آیا منفرد ہے
سبھی کو دو عدد کر کے بنایا ہے خدا نے
اکیلی ذات کا خود دکھ اٹھایا منفرد ہے
اڑا کر لے گئی آندھی ہے چڑیا کا حسیں گھر
درختوں نے یہاں ماتم منایا منفرد ہے
سبھی آ کر کے غم میں ساتھ بیٹھے اور روئے
خدا نے موت کا رشتہ بنایا منفرد ہے
زمیں آداب فرزندی کا مطلب جانتی ہے
علی نے بو ترابی نام پایا منفرد ہے

54