حقیقت میں نہیں ملتے مگر خوابوں میں زندہ ہیں
پرانے لوگ اچھے تھے ابھی یادوں میں زندہ ہیں
ابھی زنجیر کھینچو مت ابھی منزل پے پہنچا ہوں
ابھی چھالے مسافت کے مرے پیروں میں زندہ ہیں
مرے کردار کے قصے مرے یاروں سے پوچھو تم
مرے کردار کے قصے مرے یاروں میں زندہ ہیں
اچھائی سر اٹھانے پر یہاں بدنام ہوتی ہے
کہ اچھے لوگ دنیا کے برے وقتوں میں زندہ ہیں
ابھی خواہش نے دم توڑا نہیں حالات کے آگے
ابھی کچھ خواب باقی ہیں جو ان آنکھوں میں زندہ ہیں
حمادحیدرنقوی

22