| حقیقت میں نہیں ملتے مگر خوابوں میں زندہ ہیں |
| پرانے لوگ اچھے تھے ابھی یادوں میں زندہ ہیں |
| ابھی زنجیر کھینچو مت ابھی منزل پے پہنچا ہوں |
| ابھی چھالے مسافت کے مرے پیروں میں زندہ ہیں |
| مرے کردار کے قصے مرے یاروں سے پوچھو تم |
| مرے کردار کے قصے مرے یاروں میں زندہ ہیں |
| اچھائی سر اٹھانے پر یہاں بدنام ہوتی ہے |
| کہ اچھے لوگ دنیا کے برے وقتوں میں زندہ ہیں |
| ابھی خواہش نے دم توڑا نہیں حالات کے آگے |
| ابھی کچھ خواب باقی ہیں جو ان آنکھوں میں زندہ ہیں |
| حمادحیدرنقوی |
معلومات