لگے ہاتھ پیسہ تو یہ مہنگا خرید لے
تھا بھائی کا دل بہن کا کرتہ خرید لے
خدایا اسے تو اتنا تو رزق کر عطا
کہ بیٹی کا باپ اچھا رشتہ خرید لے
غریبی نے سر اٹھا کے دولت سے یہ کہا
ابھے جا کسی امیر کا گردہ خرید لے
کئی روز تک میں دریا کو دیکھتا رہا
کہ پانی کا کوئی ایک قطرہ خرید لے
یہاں نوکری غریب کو کس طرح ملے
یہ امداد بھی جناب پیسہ خرید لے
فقط کربلا میں جنگ اس واسطے ہوئی
یہ چاھا یزید نے کہ سجدہ خرید لے

43