| لگے ہاتھ پیسہ تو یہ مہنگا خرید لے |
| تھا بھائی کا دل بہن کا کرتہ خرید لے |
| خدایا اسے تو اتنا تو رزق کر عطا |
| کہ بیٹی کا باپ اچھا رشتہ خرید لے |
| غریبی نے سر اٹھا کے دولت سے یہ کہا |
| ابھے جا کسی امیر کا گردہ خرید لے |
| کئی روز تک میں دریا کو دیکھتا رہا |
| کہ پانی کا کوئی ایک قطرہ خرید لے |
| یہاں نوکری غریب کو کس طرح ملے |
| یہ امداد بھی جناب پیسہ خرید لے |
| فقط کربلا میں جنگ اس واسطے ہوئی |
| یہ چاھا یزید نے کہ سجدہ خرید لے |
معلومات