| ذرا سا شک بھی گزرے تو یقیناً مار دینا |
| وہ غیروں کا جو سوچے تو یقیناً مار دینا |
| جوانی کی قسم دے کر وہ ظالم جھوٹ بولے |
| اگر اس بار بولے تو یقیناً مار دینا |
| تمہاری یہ زباں تلوار سے بھی تیز تر ہے |
| اگر یہ سر نہ کاٹے تو یقیناً مار دینا |
| تو دریا ہے تو پھر سیراب کر پیاسوں کو پہلے |
| نہ ہوں گر ہم بھی ترسے تو یقیناً مار دینا |
| طوائف اب تو بڑھیا ہو گئی بس موت چاہے |
| لگے مر کر کنارے تو یقیناً مار دینا |
معلومات