ذرا سا شک بھی گزرے تو یقیناً مار دینا
وہ غیروں کا جو سوچے تو یقیناً مار دینا
جوانی کی قسم دے کر وہ ظالم جھوٹ بولے
اگر اس بار بولے تو یقیناً مار دینا
تمہاری یہ زباں تلوار سے بھی تیز تر ہے
اگر یہ سر نہ کاٹے تو یقیناً مار دینا
تو دریا ہے تو پھر سیراب کر پیاسوں کو پہلے
نہ ہوں گر ہم بھی ترسے تو یقیناً مار دینا
طوائف اب تو بڑھیا ہو گئی بس موت چاہے
لگے مر کر کنارے تو یقیناً مار دینا

53