| یہی دکھ تو مری پلکوں کے پر نمکین کرتا ہے |
| اجالا بخت کو کیونکر نہیں نورین کرتا ہے |
| سخاوت قوم پر میری کوئی بے دین کرتا ہے |
| یہ خالی پیٹ مذہب کی بڑی توہین کرتا ہے |
| کہیں عیسیٰ کہیں اللہ کہیں پر رام کا جھگڑا |
| یہاں ہر ایک اپنے دین کی تلقین کرتا ہے |
| یہ غربت جانتی کب ہے کہ مذہب نام ہے کس کا |
| کہ بھوکھا تو فقط بس پیٹ کی تسکین کرتا ہے |
| کوئی مسلم بھڑک جاتا ہے ایسی بات پر مجھ سے |
| گلہ دکھ کا اگر مسجد میں جا مسکین کرتا ہے |
معلومات