| تو مرے دکھ میں شراکت بھی نہیں کر سکتا |
| یعنی ملنے کی عنایت بھی نہیں کر سکتا |
| ہم وطن تجھ سے شکایت بھی کریں گے لیکن |
| بے وطن تجھ سے شکایت بھی نہیں کر سکتا |
| آؤ نفرت کو سلیقے سے ادا کرتے ہیں |
| آدمی اتنی محبت بھی نہیں کر سکتا |
| زخم دیتا ہے جو مجھ کو میں دعا دیتا ہوں |
| اس سے اچھی میں سخاوت بھی نہیں کر سکتا |
| گو اکیلا ہوں مگر بولوں گا حق کی خاطر |
| چپ سے ظالم کی حمایت بھی نہیں کر سکتا |
| تم جو چاہو تو گلابوں سے بھی جھگڑا کر لو |
| میں تو کانٹوں کی شکایت بھی نہیں کر سکتا |
| یعنی جیسے بھی وہ چاہے ہے نچوڑے دل کو |
| اور میں دل کی حفاظت بھی نہیں کر سکتا |
| صاف رکھتا ہوں مدینے کی طرح دل اپنا |
| ایسا مومن ہوں ملاوٹ بھی نہیں کر سکتا |
| یار دشمن کے بھی لشکر میں ہیں اپنے میرے |
| اپنے لشکر سے بخاوت بھی نہیں کر سکتا |
| دو کا ہونا ہی ضروری ہے محبت کے لئے |
| ایک چاہے تو محبت بھی نہیں کر سکتا |
معلومات