| ایسا وعدہ بھی نہ مانگو جو نبھاؤں گا نہیں |
| میں چلا جب تیری دنیا سے تو آؤں گا نہیں |
| مجھ کو خاطر میں نہ لانے کا اسے جو وہم تھا |
| وہم یہ تھا کے میں گھر اپنا بساؤں گا نہیں |
| لاکھ ہوریں ہوں مقدر میں مگر تم سی نہیں |
| ساتھ حوا تیرا جنت میں بھلاؤں گا نہیں |
| اس وجہ ہی سے تو جنت سے نکالا تھا مجھے |
| تیرے دھوکے میں جا ابلیسا میں آؤں گا نہیں |
| چھپ کے ملنے سے گزارا تو نہیں ہوتا مگر |
| یہ سہولت بھی ہے جب تک میں گنواؤں گا نہیں |
| وہ لگائے تو لگائے میرے زخموں پے نمک |
| میں کہ مرہم کوئی زخموں پے لگاؤں گا نہیں |
معلومات