ایسا وعدہ بھی نہ مانگو جو نبھاؤں گا نہیں
میں چلا جب تیری دنیا سے تو آؤں گا نہیں
مجھ کو خاطر میں نہ لانے کا اسے جو وہم تھا
وہم یہ تھا کے میں گھر اپنا بساؤں گا نہیں
لاکھ ہوریں ہوں مقدر میں مگر تم سی نہیں
ساتھ حوا تیرا جنت میں بھلاؤں گا نہیں
اس وجہ ہی سے تو جنت سے نکالا تھا مجھے
تیرے دھوکے میں جا ابلیسا میں آؤں گا نہیں
چھپ کے ملنے سے گزارا تو نہیں ہوتا مگر
یہ سہولت بھی ہے جب تک میں گنواؤں گا نہیں
وہ لگائے تو لگائے میرے زخموں پے نمک
میں کہ مرہم کوئی زخموں پے لگاؤں گا نہیں

58