| وطن سے دور جانے کی حماقت کیوں کریں گے |
| جنہیں روزی میسر ہے وہ ہجرت کیوں کریں گے |
| ملے گی آبلہ پائی محبت کے سفر میں |
| بھلا ایسے سفر کی آپ حسرت کیوں کریں گے |
| کبھی تو ترس کھائیں گے وہ میرے زود را پر |
| گلے مل کر مجھے ہر بار رخصت کیوں کریں گے |
| دعا ہے تو بھی روشن ہو ترا بھی بخت جاگے |
| ترقی پر تری ہم یار حیرت کیوں کریں گے |
| خدا نے درد دل بخشا ہے اس کی خیر چاہیں |
| کہ در مرشد پے کوئی اور حسرت کیوں کریں گے |
| بتایا نا کے ایسا ہو نہیں سکتا کبھی بھی |
| ہمیں تم سے محبت ہے تو نفرت کیوں کریں گے |
معلومات