وطن سے دور جانے کی حماقت کیوں کریں گے
جنہیں روزی میسر ہے وہ ہجرت کیوں کریں گے
ملے گی آبلہ پائی محبت کے سفر میں
بھلا ایسے سفر کی آپ حسرت کیوں کریں گے
کبھی تو ترس کھائیں گے وہ میرے زود را پر
گلے مل کر مجھے ہر بار رخصت کیوں کریں گے
دعا ہے تو بھی روشن ہو ترا بھی بخت جاگے
ترقی پر تری ہم یار حیرت کیوں کریں گے
خدا نے درد دل بخشا ہے اس کی خیر چاہیں
کہ در مرشد پے کوئی اور حسرت کیوں کریں گے
بتایا نا کے ایسا ہو نہیں سکتا کبھی بھی
ہمیں تم سے محبت ہے تو نفرت کیوں کریں گے

31