سنو مجھ سے مصیبت میں کوئی امید مت رکھنا
ضرورت نام کے رشتے بنایا میں نہیں کرتا
جو دیکھوں آنکھ سے اپنی اسی پر بات کرتا ہوں
پرائی آنکھ پر چشمہ لگایا میں نہیں کرتا
مجھے انصاف چاھیے تھا سو رستے پر نکل آیا
کہ ہر اک بات پر لیڈر بنایا میں نہیں کرتا
مخالف سمت چلنے پر نئے دشمن بنائے ہیں
پرانے دوستوں کو بھی بھلایا میں نہیں کرتا
میں پنجرہ کھول بھی دوں تو کبوتر گھر نہیں جاتے
انھیں مجبور کر کے پھر اڑایا میں نہیں کرتا
حمادحیدرنقوی

101