غزل۔۔حمادحیدرنقوی
وقت کس کے پاس تھا جو گہری کانیں کھودتا
میں کوئی فرہاد تھوڑی تھا جو نہریں کھودتا
خاندانی دشمنی کی آگ نسلوں تک چلی
میں اگر انکار نا! کرتا تو قبریں کھودتا
کیا خبر پانی کے نیچے زندگی کا راز ہو
ڈوب کے مرنے سے بہتر تھا کہ راہیں کھودتا
یاد کر احسان رب کا یا بنی آدم تجھے
رزق ملتا غیب سے نا! تو زمینیں کھودتا
حکم ِ یزداں تھا وگرنہ ذرہ ذرہ خاک کا
کربلا سیراب کرتا اور نہریں کھودتا

24