وہ دل سے میرے اتر گیا ہے جو نقش پہلے بنا ہوا تھا
اندھیری شب میں میں قافلے کا غبار لے کے چلا ہوا تھا
ہوا جو روشن یہ دل کا دامن تو مجھکو جیسے سکون آیا
یہ رستہ کب سے انا پرستی کی بھینٹ چڑھ کے رکا ہوا تھا
خدا کی قدرت نے وقت بدلا تو بھیڑ بن کر قریب آئے
وہ سارے اپنے میں جن میں تنہا اداس ہو کر کھڑا ہوا تھا
ہزاروں خادم ہیں ساتھ جس کے یہ شخص کتنا امیر ہو گا
قریب آ کر ہوئی یہ حیرت کہ اس کا لہجہ پھٹا ہوا تھا
خدا ہے بندے سے رابطے میں خدا ہی مشکل میں کام آئے
خدا کی رحمت تھی میرے سر میں گدا خدا کا بنا ہوا تھا
ہمارے گاؤں میں ایک درزی نئے ہے جوڑے سلائی کرتا
اسی کے بیٹے کا پورا کرتہ جگہ جگہ سے پھٹا ہوا تھا
ہاں بعد اس کے تمام رندوں نے چھوڑ دی تھی شراب نوشی
یوں تیری آنکھوں کے رابطے سے نشہ سبھی کو چڑھا ہوا تھا

21