| وہ دل سے میرے اتر گیا ہے جو نقش پہلے بنا ہوا تھا |
| اندھیری شب میں میں قافلے کا غبار لے کے چلا ہوا تھا |
| ہوا جو روشن یہ دل کا دامن تو مجھکو جیسے سکون آیا |
| یہ رستہ کب سے انا پرستی کی بھینٹ چڑھ کے رکا ہوا تھا |
| خدا کی قدرت نے وقت بدلا تو بھیڑ بن کر قریب آئے |
| وہ سارے اپنے میں جن میں تنہا اداس ہو کر کھڑا ہوا تھا |
| ہزاروں خادم ہیں ساتھ جس کے یہ شخص کتنا امیر ہو گا |
| قریب آ کر ہوئی یہ حیرت کہ اس کا لہجہ پھٹا ہوا تھا |
| خدا ہے بندے سے رابطے میں خدا ہی مشکل میں کام آئے |
| خدا کی رحمت تھی میرے سر میں گدا خدا کا بنا ہوا تھا |
| ہمارے گاؤں میں ایک درزی نئے ہے جوڑے سلائی کرتا |
| اسی کے بیٹے کا پورا کرتہ جگہ جگہ سے پھٹا ہوا تھا |
| ہاں بعد اس کے تمام رندوں نے چھوڑ دی تھی شراب نوشی |
| یوں تیری آنکھوں کے رابطے سے نشہ سبھی کو چڑھا ہوا تھا |
معلومات