| یہ ایک تو اس کے دور جانے کا مجھ کو خدشہ لگا ہوا ہے |
| کہ اس کی آنکھوں پے میری آنکھوں کا پورا ترکہ لگا ہوا ہے |
| نہ کاٹ جڑ سے کہ وقت لے کے یہ خشک شاخیں جنے کی پتے |
| کہ ان درختوں کو پھل کے گرنے کا یار صدمہ لگا ہوا ہے |
| یہ کیا کے دھڑکن میں بے سکونی سی بے سکونی امڈ رہی ہے |
| یہ کیا کے گرمی کے سخت موسم میں سرد دھڑکا لگا ہوا ہے |
| یہ پیڑ پودے بھی خشک موسم میں تیری رحمت کو دیکھتے ہیں |
| غریب مالی کا ان پے مولا تمام ترکہ لگا ہوا ہے |
| مصیبتوں سے نکال لیتا ہے مجھ کو حیدر کمال اس کا |
| یہ میری ماں کے کریم ہاتھوں کا مجھ پے صدقہ لگا ہوا ہے |
معلومات