جنہیں روزی میسر ہے وہ ہجرت کیوں کریں گے
ہمیں تم سے محبت ہے تو نفرت کیوں کریں گے
ملے گی آبلہ پائی محبت کے سفر میں
بھلا ایسے سفر کی آپ حسرت کیوں کریں گے
کبھی تو ترس کھائیں گے وہ میرے زود را پر
گلے مل کر مجھے ہر بار رخصت کیوں کریں گے
دعا ہے تو بھی روشن ہو ترا بھی بخت جاگے
ترقی پر تری ہم یار حیرت کیوں کریں گے
خدا نے دردے دل بخشا ہے اس کی خیر چاہیں
کہ در مرشد پے کوئی اور حسرت کیوں کریں گے

29