نقاب۔قدرت کو اوڑھ کر وہ سڑک کنارے کھڑا ہوا ہے
یتیم بچی کہ خشک لب پے خدا کا چہرہ بنا ہوا ہے۔۔۔
بلا کی سر پے مصیبتیں ہیں قضا کا خدشہ بھی ہو رہا ہے
نصیب حسرت کے عین درجے پے آ کے جیسے رکا ہوا ہے۔۔۔
میں ایک قطرہ مثال میری بھی کیا کہ سارا پلید تھا میں۔۔۔
خدا نے پھر بھی عبادتوں میں مجھے یہ درجہ دیا ہوا ہے۔۔۔۔
ہماری پچھلی گلی سے کل شب ملی ہے عورت کی ایک میت
بدن ہے جسکا چھدا ہوا اور جسکا چہرہ جلا ہوا ہے۔۔۔۔
خدا کہ لہجے میں ایک قاری سنا رہا ہے قرآن پڑھ کے
یزیدیوں کا حسین ع تیرے ہی خوف سے سر جھکا ہوا ہے۔۔۔
حسین ع جیتا حسین ع جیتا یہ کربلا سے صدائیں آئیں
یزید مردہ یزید فاسق یزید پورا مرا ہوا ہے۔۔۔۔۔

25