| ذکر سے کرنی ہے پڑتی نفس سے جنگ |
| ذکر سے ہی ہے اترتا قلب کا زنگ |
| ذکر سے جلتی ہے دل میں نور کی شمع |
| ذکر سے چڑھتا ہے دل پر اللہ کا رنگ |
| کرتے ہیں جو لوگ اپنے نفس کو زیر |
| سیکھ لیتے ہیں وہ جگ میں جینے کا ڈھنگ |
| کوئی کاٹتا ہے فاقے |
| کوئی کاٹتا ہے فیتے |
| کوئی جا رہا ہے آگے |
| کوئی رہ گیا ہے پیچھے |
| کوئی پا گیا ہے رفعت |
| کوئی رہ گیا ہے نیچے |
| کون روکے گا دنیا میں ظلم و ستم |
| مشکلیں کب فلسطیں کی ہونگی ختم |
| قید میں ہیں یہودی کی اہلِ غزہ |
| ہاتھ پر ہاتھ رکھے ہیں خاموش ہم |
| بھوکے پیاسے تڑپتے ہیں اہلِ غزہ |
| بچے ماؤں کی بانہوں میں دیتے ہیں دم |
| غزوہِ ہند جاری رہے گا |
| ہند سے کفر کے خاتمے تک |
| جنگِِ آزادی جاری رہے گی |
| ہند سے جبر کے خاتمے تک |
| شمعِ امید جلتی رہے گی |
| یاس کے ابر کے خاتمے تک |
| لڑ رہا ہوں جنگ میں ایک انفرادی طور پر |
| جسم کے امراض سے لڑ تا ہوں ذاتی طور پر |
| بچوں کی تعلیم کی سوچیں بھی ہیں کچھ ذہن میں |
| لڑ رہا ہوں جنگ میں اک خاندانی طور پر |
| قوم کی حالت بھی بہتر چاہتا ہوں کرنا میں |
| لڑ رہا ہوں جنگ میں ایک اجتماعی طور پر |
| قدر کی شب ہوا تھا نزولِِ وحی |
| جب تھے غارِ حرا میں خدا کے نبیﷺ |
| آئے جبریل قرآن کے ساتھ جب |
| چھٹ گئیں ظلمتیں ہو گئی روشنی |
| پھیلیں قرآں کی کرنیں جہاں بھر میں پھر |
| جس سے سب کو ہوئی اللہ کی آگہی |
| مقابل ترے بس یہودی نہیں ہے |
| نصارا کا مرکز بھی ہے یہ فلسطین |
| خدا ایک ہے پر ہیں راہیں علیحدہ |
| مقدس زمیں کے طلب گار ہیں تین |
| حوا اور آدم کی اولاد ہیں سب |
| مذاہب بہت ہیں مگر ایک ہے دین |
| اے نفسِ مطمئنہ |
| تو رب کے پاس آ یوں |
| کہ تو راضی ہو اس سے |
| وہ بھی راضی ہو تجھ سے |
| ہو بندوں میں تو شامل |
| ہو جنت میں تو داخل |