| ہزاروں ہیں تارے کھلے آسماں میں |
| نہ گھبرا کہ تنہا نہیں تو جہاں میں |
| سفر کر رہے ہیں سبھی میری جانب |
| مسافر ہیں سب اس رواں کارواں میں |
| کئی لوگ غفلت سے بھٹکے ہیں رہ سے |
| بھلا کر مجھے کھو گئے ہیں بتاں میں |
| مری یاد میں ہے سکوں دو جہاں کا |
| نہ ڈھونڈو اسے تم زماں و مکاں میں |
| صدا تیرے دل کی فلک تک ہے آتی |
| اثر ہے بہت تیرے دل کی فغاں میں |
معلومات