ہزاروں ہیں تارے کھلے آسماں میں
نہ گھبرا کہ تنہا نہیں تو جہاں میں
سفر کر رہے ہیں سبھی میری جانب
مسافر ہیں سب اس رواں کارواں میں
کئی لوگ غفلت سے بھٹکے ہیں رہ سے
بھلا کر مجھے کھو گئے ہیں بتاں میں
مری یاد میں ہے سکوں دو جہاں کا
نہ ڈھونڈو اسے تم زماں و مکاں میں
صدا تیرے دل کی فلک تک ہے آتی
اثر ہے بہت تیرے دل کی فغاں میں

0
12