Circle Image

Malik Faisal Javed

@faysalmalik

ہر انسان کے اندر کوئی نہ کوئی مزار ہوتا ہے “محبت کا مزار” جس پہ وہ دھمالیں ڈالتا ہے، قوالیاں گاتا ہے، نذرانے چڑھاتا ہےاور مرادیں مانگتا ہے بس فرق یہ ہے کہ وہ مرادیں، وہ دھمالیں، وہ نذرانے صاحبِ مزار کو ہی خوش کرنے اور اُسے پانے کے لیے ہوتی ہیں.. کُچھ لوگ تو اس مزار پہ سجدے تک کر دینے سے نہیں ہچکچاتے..کُچھ لوگوں کے اندر کئی مزار ہوتے ہیں وہ کبھی ایک کبھی دوسرے در پہ بھٹکتے رہتے ہیں اور سو میں سے کوئی دو فیصد لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی تڑپ دیکھ کر صاحبِ مزار اُنہیں مصافحے سے نواز دیتے ہیں ، مل جاتے ہیں..میرے  کوزہ گر مُجھے گوندھ پھرمیرے یار کی خاکِ پاک سےکہ مٹ سکیں ازل کے فاصلےمیری منزل سکندر نصیب ہوفیصل ملک

1
53
وہ کہتی ہے
تمہارا عشق
بہت مُشکل ہے جاناں
میں کہتا ہوں
آسان ہوتا
تو کیا تُم اختیار کر لیتیں

0
24
مسندِ عقیدت سے اُتار دیےجاؤ گے
چُپ رہو! وگرنہ مار دیے جاؤ گے
یہ بستی گُونگوں کی بستی ہے
شور جو مچاؤ گے گاڑ دیے جاؤ گے
یہ کہنا ہے اس دور کے پئمبروں کا
گُذرو گے نہیں تو گُذار دیے جاؤ گے

5
64
میرے مُرشد میرے شاہ پیا
میرے اندر بنا کوئی راہ پیا
مُجھ پریت نگر کے منڈپ میں
ہو دو وقتوں کا بیاہ پیا
فیصل ملک

14
پھر پتہ نہیں مُلاقات ہو کہ نہ ہو
آج زرا دُور تک چھوڑنے جاؤ مُجھے
فیصل ملک

13
اُس تمام وقت ، ایک امتحان میں رہا
جب وہ میری محبت کے ایقان میں رہا
وہ میرے ہاتھ کی لکیروں میں تھا ہی نہیں
جانے کیوں دل اسی کے گُمان میں رہا
میں اُس کی چاہ میں کہاں کہاں نہیں پھرا
جنگل گیا، پربت چڑھا ، بیابان میں رہا

0
18
یار تُو چاہے دھوکہ دے جائیو
مگر دیکھ پیٹھ پیچھے نہ مُسکرائیو
فیصل ملک

0
13
کوئی چُپ ہو ایسی شدت کی
میں سُنتا رہوں سر دھنتا رہوں
فیصل ملک

15