| ہمارے دور کے فرعون سارے رہنما بن کر |
| ہمارےہی خدا سے لڑ رہے ہیں پارسا بن کر |
| مکاری بسی رہتی ہے ساری سوچ میں ان کی |
| ہمیں تو لوٹ لیتے ہیں سبھی مشکل کشا بن کر |
| خدا سے پوچھ لیں گے کیوں ہدایت بھی نہیں بخشی |
| ترے جو پاس رہتے تھے ترے ہی آشنا بن کر |
| آ گئی محبوب میں اب نزاکت کیا کیا |
| عاشقوں پے گزرے گی پھر قیامت کیا کیا |
| ایک مدت سے طلب گار ہیں دیدار کے |
| بے قراری سے بگڑتی ہے حالت کیا کیا |
| اس جہاں میں آنے سے پہلے کوئی جرم تھا |
| جو ملی ہیں اس جہاں میں رفاقت کیا کیا |
| محبت تو محبت ہے یہ جاری تو رہے گی |
| اگر اُن کو نہیں ہے پھر ہماری تو رہے گی |
| کسی اور ہی ہوا میں ہوں خبر کچھ بھی نہیں ہے |
| کیا ہے عشق جو تم سے خماری تو رہے گی |
| نجانے دل میں کیا آیا الگ کیوں ہو گیا ہے |
| جدائی بھی سزا ہے بے قراری تو رہے گی |