| تجھے حال دل کا سُنائیں کیا کیا |
| کہ گزری ہیں اس پر بلائیں کیا کیا |
| کراہیں یہ آہیں بلائیں کیا کیا |
| مسلسل ملی ہیں سزائیں کیا کیا |
| نظر آ رہی ہیں خطائیں کیا کیا |
| بتادو مجھے چھوڑ جائیں کیا کیا |
| نہ ملی مجھے پھر وفائیں کیا کیا |
| اُسے آ گئی اب ادائیں کیا کیا |
| وہی ہم پہ اب ظلم ڈھائیں کیا کیا |
| لگے بال ہم کو گھٹا ئیں کیا کیا |
| بُجا دیں دیئے یہ ہوائیں کیا کیا |
| تجھے دی تھی ہم نے صدائیں کیا کیا |
| ترے واسطے تحفہ لائیں کیا کیا |
معلومات