دکھ اتنے ہیں سنبھالے نہیں جاتے
اور گھر سے بھی نکالے نہیں جاتے
اس رزق کی تلاش میں اے خالق
پاؤں سے میرے چھالے نہیں جاتے
اک بار عشق آپ کو ہو جائے
ساری عمر حوالے نہیں جاتے
رشتہ اگر بحال نہ ہو پھر بھی
کردار تو اچھالے نہیں جاتے
ممکن ہے تیرے شہر میں رک جائیں
اپنا اگر بنا لے نہیں جاتے

0
3