کمال کرتے ہیں مستفید ہونے والے
یزید بن جاتے ہیں مرید ہونے والے
پتہ نہیں جاتے ہیں کہاں منافق سارے
بہشت میں جیتے ہیں شہید ہونے والے
خدا ہدایت دے اور نکھار دے ان کو بھی
جو بن رہے ہیں خود ہی پلید ہونے والے
عزیز ہو جن کو آج دوسروں کی خوشیاں
کہاں گئے وہ انساں مفید ہونے والے
خدا رکھے ہے ہر حال میں نظر ہر جاں پر
امید کرتے ہیں جب امید ہونے والے
مزاج میں سختی آج بھی ترے باقی ہے
ابھی ستم ہیں تم پر مزید ہونے والے
لگے مرے دل کو جان سے بڑے پیارے تم
کہیں سنا ہے تم ہو سعید ہونے والے
الگ تھلگ تھے منسوب لوگ تجھ سے شاکر
نصیب میں کب آئے نوید ہونے والے

0
5