کچھ تعلق یوں بھی نبھائے گئے ہیں
جس قدر ممکن تھا ستائے گئے ہیں
لوٹنے والے رحم کرتے نہیں ہیں
خواب بھی آنکھوں سے چرائے گئے ہیں
روز محشر ہی اب شکایت کریں گے
آج جو محفل سے اٹھائے گئے ہیں
لوگ مذہب کا نام لیکر یہاں پر
مار کر اور زندہ جلائے گئے ہیں
بھول جانا منظور بالکل نہیں تھا
پھر زبردستی سے بھلائے گئے ہیں

0
2