چہرا نہیں ملتا  شناسا اب کوئی
اچھا نہیں لگتا تقاضا اب کوئی
دل تو وہی ہے لوگ اُن جیسے کہاں
ممکن نہیں پھر سے تماشا اب کوئی
شاید کبھی وہ لوٹ آئے بھول کر
یوں دے رہا ہے اک دلاسا اب کوئی
کچھ دیر پہلے ہی جلایا ہے دیا
چکر لکے گا پھر ہوا کا اب کوئی
جو ڈوب جائے ان نشیلی آنکھوں میں
اس کو نہیں ملتا کنارا اب کوئی
کتنی اداسی سج رہی ہے شہر میں
جیسے مری ہو اک تمنا اب کوئی
شاکر میسر ہی نہیں پل کا سکوں
آ ڈھونڈ لیتے ہیں مسیحا اب کوئی

0
5