| چہرا نہیں ملتا شناسا اب کوئی |
| اچھا نہیں لگتا تقاضا اب کوئی |
| دل تو وہی ہے لوگ اُن جیسے کہاں |
| ممکن نہیں پھر سے تماشا اب کوئی |
| شاید کبھی وہ لوٹ آئے بھول کر |
| یوں دے رہا ہے اک دلاسا اب کوئی |
| کچھ دیر پہلے ہی جلایا ہے دیا |
| چکر لکے گا پھر ہوا کا اب کوئی |
| جو ڈوب جائے ان نشیلی آنکھوں میں |
| اس کو نہیں ملتا کنارا اب کوئی |
| کتنی اداسی سج رہی ہے شہر میں |
| جیسے مری ہو اک تمنا اب کوئی |
| شاکر میسر ہی نہیں پل کا سکوں |
| آ ڈھونڈ لیتے ہیں مسیحا اب کوئی |
معلومات