Circle Image

Abdullah khalid

@Misria

​دل کی بستی میں بچھڑنے کا ہنر رہ جائے گا
تُو چلا جائے گا لیکن اک اثر رہ جائے گا
​شہرِ الفت کی فضا میں ڈھونڈ پاؤ گے ہمیں
تیری آنکھوں میں کوئی خوابِ سحر رہ جائے گا
​کون پہنچا ہے کبھی منزل پہ اے جانِ وفا
تھک کے رہ جائیں گے ہم اور یہ سفر رہ جائے گا

0
3
کھلا ہے یوں ترا پیکر کہ جیسے حسنِ چمن
مہک رہا ہے گلستاں میں تیرا سیمیں بدن
​تبسمِ لبِ جاں بخش سے یہ عالم ہے
کھلے ہوں شاخِ گلستاں پہ جیسے پھول و سمن
بسی ہے روح میں تیرے خیال کی خوشبو
ہوا ہے مشکِ ختن آج میرا فکر و سخن

0
4
شجر سے ٹوٹ کر پتا گرا ہے
سفر کا وقت آخر آ گیا ہے
​دیے کی لو لرزتی جا رہی ہے
ہوا کا رخ بہت ہی بے وفا ہے
​پرندے لوٹ کر گھر آ گئے ہیں
افق پر شام کا تارا چمکا ہے

0
14
دھوپ کے خیمے پرندوں نے اٹھائے، شام ہے
چاند تارے آسماں سے ٹوٹ آئے، شام ہے
جھیل کے شفاف پانی میں گرا ہے اب سکوت
پیڑ کے سائے ذرا سے لہلہائے، شام ہے
بوئے گل لائی ہے اب ریشم سا اک روشن دیا
بادِ وحشی کس طرف ہم کو بلائے شام ہے

0
11
شکوہِ ایزد ہے یا گلہ ہے اب حالات سے
جل گیا گلشن بہارِ نو کے ہی صدمات سے
​رند تیرے مے کدے کا راستہ ہی بھول کر
جا گرے ہیں دور ساقی اب تمہارے ہات سے
​یوں سرِ مقتل نہ کھولو زلف کو اپنی صنم
لوگ نکلے ہی نہیں اب تک طلسمِ رات سے

0
13
تصور میں جو وہ شہرِ تمنا لے کے بیٹھے ہیں
ہم اپنے گھر میں جنت کا نظارہ لے کے بیٹھے ہیں
​خدایا! اب مدینے کی زیارت ہو ہی جائے گی؟
زباں پر ہم سلامِ شوقِ طیبہ لے کے بیٹھے ہیں
​وہی رحمت کا پیکر، ہادیِ اعظم، شہِ بطحا
جسے رب نے پکارا، ہم وہ رستہ لے کے بیٹھے ہیں

0
6
وادیوں میں جب سحر کے ہاتھ سے مخمل گرے
اور سبزے کی قبا پر موتیوں کے دَل گرے
پھول جب چلمن ہٹائیں، مسکرائیں بے سبب
فلسفہ کہتا ہے، دیکھو! لوٹ آیا ہے شباب
​پھول کیا ہے؟ ایک خاموش آرزو کی داستاں
خاک سے افلاک تک پھیلا ہوا اک امتحاں

0
8
خاک کی صورت ہے لیکن کیمیا ہے زندگی
بندگی میں ڈھل سکے تو معجزہ ہے زندگی
​وقت کی لہروں پہ نقشِ آب ہیں سب خواہشیں
بحر کی گہرائی میں اک بلبلا ہے زندگی
​عقل کہتی ہے کہ ہے بس اک سفر بے سمت و راہ
عشق کہتا ہے کہ رب کا راستہ ہے زندگی

0
11
مہک اٹھا ہے ترے دم سے آج حسنِ چمن
بسا ہے تیری ہی خوشبو سے میرا پیراہن
​تبسمِ لبِ جاں بخش سے یہ عالم ہے
کھلے ہوں شاخِ گلستاں پہ جیسے پھول و سمن
​بسی ہے روح میں تیرے خیال کی خوشبو
ہوا ہے مشکِ ختن آج میرا فکر و سخن

0
10
جلوہ گر ہے ہر طرف اس کی خدائی دیکھنا
ذرے ذرے میں اسی کی کبریائی دیکھنا
مہر و مہ کی روشنی ہو یا کہ تاروں کا وفور
خالقِ کون و مکاں کی روشنائی دیکھنا
کوہساروں کی بلندی، وادیوں کی وسعتیں
آسمانوں کی منزہ دلربائی دیکھنا

1
18
شیشہِ جاں میں ترا عکسِ معطر آ گیا
تجھ کو سوچا تو بدن میں رنگِ مرمر آ گیا
​تیری قامت، جیسے لہرا جائے چاندی کا شجر
تیرے ماتھے پر دمکتا ماہِ انور آ گیا
​وہ سراپا ہے کہ جیسے شاخِ گل لچکی ہوئی
تیری جنبش سے ہوا میں رقصِ ساغر آ گیا

0
11
فریبِ ہجر میں کٹتی ہے اب عمرِ رواں کوئی
کہاں منزل ہے اپنی اور کہاں ہے کارواں کوئی
​نہ سمجھا ہے، نہ سمجھے گا غمِ دل کا بیاں کوئی
بنا ہے کب یہاں دردِ دروں کا ترجماں کوئی
​بہت دیکھے ہیں ہم نے دورِ ہستی میں عجب منظر
نہیں ہوتا کسی کے واسطے اب جاں فشاں کوئی

0
10
محبت کی مسافت میں نہیں ہے سائباں کوئی
نہیں ہے ہم سفر کوئی، نہ اپنا کارواں کوئی
​سرِ مژگاں سجائے بیٹھے ہیں اب ہم تری یادیں
بنائے گا بھلا کیا اب نیا دل میں مکاں کوئی
​زمانے بھر کی رسوائی ملی ہے عشق میں ہم کو
نہ دیکھا ہم نے الفت میں یہاں اپنا زیاں کوئی

0
13
لبوں پر خامشی رکھ کر دلوں کو بولنے دینا
محبت میں کبھی تم رابطوں کو بولنے دینا
​ہمارے ظرف کا قصہ تو دنیا خود ہی لکھے گی
مگر کچھ دیر اپنے حاسدوں کو بولنے دینا
​پرکھنا ہو اگر سچ کو تو اتنی شرط لازم ہے
عدالت میں فقط اب منصفوں کو بولنے دینا

0
11
پھول کھلتے ہیں مگر یادِ خزاں باقی ہے
ساتھ کانٹوں کا بھی انجامِ جہاں باقی ہے
رنگ و خوشبو کی حقیقت نہ سنو موسم سے
اک چمن ہے جو مرے دل میں جواں باقی ہے
موجِ گلزار نے سب کچھ تو جلا ڈالا ہے
پر بہاروں کا کوئی رازِ نہاں باقی ہے

0
7
دھوپ کے سائے میں رک جائے تو اچھا ہو جائے
زخم ہر درد میں چھپ جائے تو اچھا ہو جائے
دور صحرا میں جلیں پیاس کے بے چین دیے
کوئی بادل ہی برس جائے تو اچھا ہو جائے
چاند سے بات کریں، رات سہانی ہو جائے
کوئی جگنو ہی ٹھہر جائے تو اچھا ہو جائے

0
16
ہوا کے ساتھ چلی ہے جمال کی خوشبو
درخت بول اٹھے ہیں، کمال کی خوشبو
پرند شاخ پہ چپ ہیں، مگر فضا روشن
کہیں چھپی ہے ابھی بھی غزال کی خوشبو
زمیں پہ اوس نے لکھ دی کوئی پرانی نظم
ہوا میں گونجتی ہے سوال کی خوشبو

0
20
سایہ بھی مرا ساتھ نبھانے سے ہے قاصر
تنہائی کا بدلہ مجھے دیتا ہے خداوند
کانٹوں پہ چلا میں تو گلہ پھر بھی نہیں ہے
تقدیر کے لکھے کو میں سمجھا نہ کبھی بند
ہر دور میں دیکھے ہیں یزیدی بھی یہاں پر
ہر دور میں حق والے بھی ہوتے رہے درمند

0
21
ہوا کے دوش پہ خوشبو کا کارواں چمکے
گلاب چھیڑے کوئی ساز، باغباں چمکے
لبوں پہ قُطرۂ شبنم کا رقص برپا ہے
ہر ایک پھول کے چہرے پہ کہکشاں چمکے
چٹان پر کوئی دریا لکھے قصیدے کو
کسی صدف میں چھپی موتیوں کی جاں چمکے

26
شب کے دامن میں یہ سحر بولے
پھول، خوشبو، ہوا، شجر بولے
پھول ہنس دیں، ہوا صدا دے کوئی
بوٹا بوٹا نئی خبر بولے
جھیل پر چاندنی کی چلمن ہو
اور کنارا تری نظر بولے

0
44
چاند نکلا تو بام و در چمکے
شب کی دہلیز پر سحر چمکے
ابر برسا تو پیڑ جی اٹھے
پتوں پر اوس کا اثر چمکے
پیڑ کی اوٹ سے مہک آئی
راستوں پر کوئی نظر چمکے

0
17
ہوا کے ساتھ گیا موسمِ گلاب مرا
کہاں سے لاؤں میں اب رنگ اور خواب مرا؟
خموش رات میں آنکھوں نے اس کو لکھا ہے
کہ جیسے چاند لکھے خط کا ایک باب مرا
میں جس کو چوم کے رکھتا تھا اپنے ہونٹوں پر
ہوا اُڑا کے کہاں لے گئی گلاب مرا؟

0
19
برس پڑی جو گھٹا شب کی خامشی میں کہیں
مہک اٹھی مری تنہائی تیرگی میں کہیں
ہوا کے ساتھ چلی ہے سُرور کی خوشبو
کوئی چھپا تھا مرا درد نغمگی میں کہیں
ہنسی میں، نرگس و گل میں، ہوا کے گیتوں میں
بسا ہوا ہے مرا عشق زندگی میں کہیں

0
21
چاہتوں کے یہ تقاضے نبھاتے رہو
تم گئے ہو تو بھی لوٹ آتے رہو
دور ہو کر بھی دل سے نہ جانا کبھی
خواب آنکھوں میں آ کر سجاتے رہو
شامِ ہجراں میں تنہا کھڑا ہوں مگر
اپنے وعدوں کی شمعیں جلاتے رہو

0
14
چشمِ نازک سے چھلک جاتے ہیں پیمانوں کے رنگ
بادہ نوشی میں بھی چھن جاتے ہیں دیوانوں کے رنگ
کیا ستم ڈھائے زمانے نے دلِ شیدا پہ آج
محو ہو کر رہ گئے بزمِ رفیقانہ کے رنگ
خالدؔ اب ہنگامۂ عشاق کی رونق گئی
سینۂ افسردہ میں باقی نہ پروانوں کے رنگ

0
21
نسیمِ شب نے چپکے سے ترانے گنگنائے ہیں
سحر کی نرم کرنوں نے نئے جلوے دکھائے ہیں
ترے قدموں کی آہٹ سے مہک اٹھے ہیں گلشن سب
بہاروں نے عقیدت سے ترے رستے بچھائے ہیں
فضا میں تیری خوشبو نے عجب جادو بکھیرے ہیں
گلابوں نے ترے لب سے نئے نغمے سنائے ہیں

0
17
چمک رہی ہے ستاروں میں کہکشاں اب تک
ترے خیال کی خوشبو ہے درمیاں اب تک
ہوا کے ساتھ گیا وقت بھی مگر دل میں
کہیں پہ باقی ہے یادوں کا کارواں اب تک
بچھڑ کے تُو نے بھی شاید یہ سوچ رکھا تھا
کہ مٹ ہی جائے گا دل سے مرا نشاں اب تک

0
26
شبِ ہجر میں دل کا عالم نہ پوچھ
نگاہوں میں اشکوں کا موسم نہ پوچھ
ہوئی خاک میں حسن کی سرکشی
مگر دل میں ہے اب بھی ماتم نہ پوچھ
کبھی لطفِ دنیا پہ ہنستا رہا
کبھی رو دیا اپنا عالم نہ پوچھ

0
41
شبِ ہجر میں دل کا عالم نہ پوچھ
نگاہوں میں اشکوں کا موسم نہ پوچھ
ہوئی خاک میں حسن کی سرکشی
مگر دل میں ہے اب بھی ماتم نہ پوچھ
کبھی لطفِ دنیا پہ ہنستا رہا
کبھی رو دیا اپنا عالم نہ پوچھ

0
24
شبِ ہجر میں دل کا عالم نہ پوچھ
نگاہوں میں اشکوں کا موسم نہ پوچھ
ہوئی خاک میں حسن کی سرکشی
مگر دل میں ہے اب بھی ماتم نہ پوچھ
کبھی لطفِ دنیا پہ ہنستا رہا
کبھی رو دیا اپنا عالم نہ پوچھ

46
شبِ ہجر میں دل کا عالم نہ پوچھ
نگاہوں میں اشکوں کا موسم نہ پوچھ
ہوئی خاک میں حسن کی سرکشی
مگر دل میں ہے اب بھی ماتم نہ پوچھ
کبھی لطفِ دنیا پہ ہنستا رہا
کبھی رو دیا اپنا عالم نہ پوچھ

0
33
مدینے کی جانب ہواؤں کو دیکھا
بہت جھک کے گزرا، گھٹاؤں کو دیکھا
جہاں ان کے نقشِ قدم پڑ رہے تھے
بہاروں نے چوما، وفاؤں کو دیکھا
یہ کس در کے سائل ہیں، کیسا نصیبہ؟
یہاں خاک میں بھی عطاؤں کو دیکھا

0
1
50