| چشمِ نازک سے چھلک جاتے ہیں پیمانوں کے رنگ |
| بادہ نوشی میں بھی چھن جاتے ہیں دیوانوں کے رنگ |
| کیا ستم ڈھائے زمانے نے دلِ شیدا پہ آج |
| محو ہو کر رہ گئے بزمِ رفیقانہ کے رنگ |
| خالدؔ اب ہنگامۂ عشاق کی رونق گئی |
| سینۂ افسردہ میں باقی نہ پروانوں کے رنگ |
| چشمِ نازک سے چھلک جاتے ہیں پیمانوں کے رنگ |
| بادہ نوشی میں بھی چھن جاتے ہیں دیوانوں کے رنگ |
| کیا ستم ڈھائے زمانے نے دلِ شیدا پہ آج |
| محو ہو کر رہ گئے بزمِ رفیقانہ کے رنگ |
| خالدؔ اب ہنگامۂ عشاق کی رونق گئی |
| سینۂ افسردہ میں باقی نہ پروانوں کے رنگ |