​دل کی بستی میں بچھڑنے کا ہنر رہ جائے گا
تُو چلا جائے گا لیکن اک اثر رہ جائے گا
​شہرِ الفت کی فضا میں ڈھونڈ پاؤ گے ہمیں
تیری آنکھوں میں کوئی خوابِ سحر رہ جائے گا
​کون پہنچا ہے کبھی منزل پہ اے جانِ وفا
تھک کے رہ جائیں گے ہم اور یہ سفر رہ جائے گا
​تم تو یادوں کے جزیروں میں چلے جاؤ گے یار
میرے حصے میں فقط یہ در و گھر رہ جائے گا
​حرفِ حق کہنا اگرچہ جرم ہے اس عہد میں
پھر بھی مقتل میں کوئی تو بے خطر رہ جائے گا
​ظلمتِ شب میں جلا رکھی ہے ہم نے اک شمع
رسمِ الفت کا یہی بس اک ثمر رہ جائے گا
​خالد اس دشتِ تمنّا میں ہمیں کیا مل سکا
اک تھکن رہ جائے گی، اک ہم سفر رہ جائے گا

0
3