شیشہِ جاں میں ترا عکسِ معطر آ گیا
تجھ کو سوچا تو بدن میں رنگِ مرمر آ گیا
​تیری قامت، جیسے لہرا جائے چاندی کا شجر
تیرے ماتھے پر دمکتا ماہِ انور آ گیا
​وہ سراپا ہے کہ جیسے شاخِ گل لچکی ہوئی
تیری جنبش سے ہوا میں رقصِ ساغر آ گیا
​زلف کھولی تو گھٹائیں سر جھکانے لگ گئیں
تیری آنکھوں میں سمٹ کر کل سمندر آ گیا
​نقشِ پا چوما تو مہکا ہے مرا ہر ایک خواب
خاکِ راہِ یار میں عنبر کا پیکر آ گیا
​دھوپ اٹھلاتی ہے تیرے رنگِ تاباں کی قسم
برف جیسے جسم پر سورج کا پیکر آ گیا
​تیری پلکوں کی گھنی چھاؤں تلے جاں کھو گئی
نیند اڑی تو سامنے خوابوں کا لشکر آ گیا
​جسم جیسے چاندنی میں بھیگتا اِک خواب ہو
تیرِ مژگاں لے کے وہ جاں کے نگر میں آ گیا
​چال میں وہ بانکپن ہے حور و غلماں دنگ ہیں
کوئی قدسی خلد سے جیسے زمیں پر آ گیا
​حسنِ بے پروا نے جب ڈالا حجابِ مصلحت
پھر تخیل میں مری اک خوابِ اطہر آ گیا
​وہ مری وحشت کا عالم، وہ ترا حسنِ گریز
گفتگو کے درمیاں جیسے سمندر آ گیا
​تیرے آنے کی خبر سے جاگ اٹھے بجھتے چراغ
گھر کے سناٹے میں جیسے کوئی لشکر آ گیا
​وہ نزاکت ہے کہ جیسے شاخِ گل لچکی ہوئی
پیرہن کے روپ میں ڈھل کر گلِ تر آ گیا
اب تری یادوں کے جگنو ہیں، یہ خالدؔ اور غزل
بزمِ دل میں خواب بن کر ایک منظر آ گیا

0
11