| مدینے کی جانب ہواؤں کو دیکھا |
| بہت جھک کے گزرا، گھٹاؤں کو دیکھا |
| جہاں ان کے نقشِ قدم پڑ رہے تھے |
| بہاروں نے چوما، وفاؤں کو دیکھا |
| یہ کس در کے سائل ہیں، کیسا نصیبہ؟ |
| یہاں خاک میں بھی عطاؤں کو دیکھا |
| جہاں آ کے دل کو سکوں مل رہا ہے |
| وہیں میں نے جاکر دعاؤں کو دیکھا |
| نگاہوں میں رحمت کے بادل ہیں چھائے |
| مدینے کی گلی میں وفاؤں کو دیکھا |
| محمد ﷺ کا روضہ، محمد ﷺ کی گلی |
| یہاں روشنی میں ضیاؤں کو دیکھا! |
معلومات