| لبوں پر خامشی رکھ کر دلوں کو بولنے دینا |
| محبت میں کبھی تم رابطوں کو بولنے دینا |
| ہمارے ظرف کا قصہ تو دنیا خود ہی لکھے گی |
| مگر کچھ دیر اپنے حاسدوں کو بولنے دینا |
| پرکھنا ہو اگر سچ کو تو اتنی شرط لازم ہے |
| عدالت میں فقط اب منصفوں کو بولنے دینا |
| جنہیں وحشت کی عادت ہو وہ کب دیوار تکتے ہیں |
| کھلی جگہوں پہ ایسے پاگلوں کو بولنے دینا |
| پلٹ کر پھر کبھی خالدؔ نہ آئے گا گیا لمحہ |
| جو گزری ہیں ابھی ان ساعتوں کو بولنے دینا |
معلومات