فریبِ ہجر میں کٹتی ہے اب عمرِ رواں کوئی
کہاں منزل ہے اپنی اور کہاں ہے کارواں کوئی
​نہ سمجھا ہے، نہ سمجھے گا غمِ دل کا بیاں کوئی
بنا ہے کب یہاں دردِ دروں کا ترجماں کوئی
​بہت دیکھے ہیں ہم نے دورِ ہستی میں عجب منظر
نہیں ہوتا کسی کے واسطے اب جاں فشاں کوئی
​گلی میں تیری ہم نے زندگی کی خاک چھانی ہے
نہ ڈھونڈے گا ہمیں اب دہر میں نام و نشاں کوئی
​لبوں پہ مہرِ خاموشی، دلوں میں وحشتِ دوراں
سنے گا کیا بھلا اس بزم میں آہ و فغاں کوئی
​نہ دستک ہے، نہ آہٹ ہے، نہ یادوں کا بسیرا ہے
مرا اس بزمِ ہستی میں نہیں ہے راز داں کوئی
​گزرتے وقت نے خالد ہمیں یہ بات سمجھائی
نہیں ہوتا کسی کے دکھ میں سچا نوحہ خواں کوئی

0
6