| ہوا کے ساتھ چلی ہے جمال کی خوشبو |
| درخت بول اٹھے ہیں، کمال کی خوشبو |
| پرند شاخ پہ چپ ہیں، مگر فضا روشن |
| کہیں چھپی ہے ابھی بھی غزال کی خوشبو |
| زمیں پہ اوس نے لکھ دی کوئی پرانی نظم |
| ہوا میں گونجتی ہے سوال کی خوشبو |
| گلاب سو کے بھی خوشبو میں بات کرتا ہے |
| لبوں پہ ٹھہری ہوئی ہے خیال کی خوشبو |
| ہنسی میں گھل کے وہ آنکھیں بھیگتی رہی ہیں |
| چھپی ہوئی ہے وہاں بھی ملال کی خوشبو |
| پرند چپ ہیں مگر شام بولتی ہے کہیں |
| اداس رستوں سے آئی وصال کی خوشبو |
| گھنے شجر کے تلے، دھوپ بھی ٹھہرتی ہے |
| کسی کا لمس لیے ہے کمال کی خوشبو |
معلومات