| شکوہِ ایزد ہے یا گلہ ہے اب حالات سے |
| جل گیا گلشن بہارِ نو کے ہی صدمات سے |
| رند تیرے مے کدے کا راستہ ہی بھول کر |
| جا گرے ہیں دور ساقی اب تمہارے ہات سے |
| یوں سرِ مقتل نہ کھولو زلف کو اپنی صنم |
| لوگ نکلے ہی نہیں اب تک طلسمِ رات سے |
| گل فروشوں کا ہوا ہے اب تو مندا کاروبار |
| ہم کو شکوہ ہے تمہارے صندلی سے ہات سے |
| خار کی فطرت ہے چبھنا، ان سے کیا کرنا گلہ |
| باغباں شاکی ہوا ہے پھول کی ہر مات سے |
| امن کی وہ فاختہ اب ڈھونڈتی ہے آشیاں |
| خوف کی لہریں اٹھی ہیں جنگ کی آفات سے |
| حرفِ حق کہنا ہی خالد زندگی کا راز ہے |
| رک نہ پائے گا سفر اب وقت کی ضربات سے |
معلومات