| محبت کی مسافت میں نہیں ہے سائباں کوئی |
| نہیں ہے ہم سفر کوئی، نہ اپنا کارواں کوئی |
| سرِ مژگاں سجائے بیٹھے ہیں اب ہم تری یادیں |
| بنائے گا بھلا کیا اب نیا دل میں مکاں کوئی |
| زمانے بھر کی رسوائی ملی ہے عشق میں ہم کو |
| نہ دیکھا ہم نے الفت میں یہاں اپنا زیاں کوئی |
| لبوں پر چپ سجی ہے اور آنکھیں بول پڑتی ہیں |
| سمجھ پائے گا کیا اب دردِ دل کی یہ زباں کوئی |
| جو بکھرا ہے مری ہستی کا شیرازہ تو سوچا ہے |
| بنائے گا مری مٹی سے کیا اب پھر جہاں کوئی |
| گزرتے وقت نے خالد ہمیں یہ بات سمجھائی |
| نہیں ہوتا کسی کے دکھ میں سچا نوحہ خواں کوئی |
معلومات