شجر سے ٹوٹ کر پتا گرا ہے
سفر کا وقت آخر آ گیا ہے
​دیے کی لو لرزتی جا رہی ہے
ہوا کا رخ بہت ہی بے وفا ہے
​پرندے لوٹ کر گھر آ گئے ہیں
افق پر شام کا تارا چمکا ہے
​نگر میں اب کہیں رونق نہیں ہے
کوئی ہجرت کا مارا رو رہا ہے
​گلستاں میں عجب خاموشی چھائی
اکیلے پن سے پنچھی ڈر گیا ہے
​مرے گھر میں اجالے کیوں نہیں ہیں
مرا سورج کہیں پر کھو گیا ہے
​غمِ دنیا سے کیا لینا ہمیں اب
مرا خالد الگ ہی راستہ ہے

0
10