مہک اٹھا ہے ترے دم سے آج حسنِ چمن
بسا ہے تیری ہی خوشبو سے میرا پیراہن
​تبسمِ لبِ جاں بخش سے یہ عالم ہے
کھلے ہوں شاخِ گلستاں پہ جیسے پھول و سمن
​بسی ہے روح میں تیرے خیال کی خوشبو
ہوا ہے مشکِ ختن آج میرا فکر و سخن
​نکھر گیا ہے تری دید سے یہ روئے زمیں
لچک رہی ہے جو شاخِ گلِ لطیف بدن
​تری جبیں پہ جو چمکا ہے اک ستارہ سا
ہوا ہے چاند بھی حیراں بہ رنگِ مہر و لگن
​کسی کی یاد کے جگنو چمکنے لگتے ہیں
سیاہ رات میں روشن ہو جب ترا آنگن
​یہ تیرے پاؤں کی آہٹ ہے یا کوئی نغمہ
سماعتوں میں بسا ہے کوئی سریلا پن
​عجیب قحطِ مروت ہے اس زمانے میں
بدل رہا ہے یہاں آدمی کا رنگ و چلن
​بچھڑ کے تجھ سے عجب حال ہے مرے دل کا
سلگ رہا ہے جدائی میں میرا جان و بدن
​فریبِ جلوہِ دنیا سے بچ کے نکلے ہیں
لگا ہے عشق کے ہاتھوں ہمیں بھی اب وہ گھن
​عروجِ ذات کی منزل شعورِ غم میں ہے
سجا ہے زخم کے پھولوں سے میرا فکرِ کہن
​ترے جمال کی صورت گری محال ہے اب
تھکن سے چور ہے خالدؔ مرا شعور و فن

0
7