دھوپ کے خیمے پرندوں نے اٹھائے، شام ہے
چاند تارے آسماں سے ٹوٹ آئے، شام ہے
جھیل کے شفاف پانی میں گرا ہے اب سکوت
پیڑ کے سائے ذرا سے لہلہائے، شام ہے
بوئے گل لائی ہے اب ریشم سا اک روشن دیا
بادِ وحشی کس طرف ہم کو بلائے شام ہے
راستوں پر گر پڑے ہیں زرد پتوں کے حروف
وقت شاید اب کوئی قصہ سنائے، شام ہے
ایک نیلا سا ستارہ آسماں سے گر پڑا
پھول کی خوشبو ہوا میں لڑکھڑائے، شام ہے
جل گئے ہیں شہر کے سب روشنی کے دائرے
دشت کی خاموشیوں میں دل لبھائے، شام ہے
خالدؔ اب کے بار اس کی یاد کا روشن دیا
طاقِ جاں پر کوئی آ کر پھر سجائے، شام ہے

0
6