Circle Image

Dr. Anjum Jalal

@anjumjalal

جوشِ جنوں میں کیسے عجب مشغلے رہے
در پیش ہر چٹان سے سر پھوڑتے رہے
ہستی کے کار زار میں بچنا محال تھا
وہ بچ گئے جو اپنی انا توڑتے رہے
یہ جان کر کہ کھیل تماشہ ہے زندگی
یہ رو دیئے، وہ ہنس پڑے، ہم کھیلتے رہے

0
2
اظہار ہوں کسی کے حسنِ خیال کا
یا عکس ہوں کسی کے جاہ و جلال کا
میں کون ہوں کہاں سے آیا ہوں اس جگہ
کیوں میں ہی مستحق تھا ایسے وبال کا
عادت سی ہوگئی ہے بے سود مجھ کو کیوں
رکھنا حساب روز و شب،   ماہ و سال کا

0
6
بہت خواہش تھی جنت کی مگر حاصل ہوئی دوزخ
جسے جنت سمجھتے تھے اسی میں تھی چھپی دوزخ
سزا اور جرم دنیا میں ہیں گویا گردشی قرضہ
کسی کی چھین لی جنت کسی سے مل گئی دوزخ
جہاں پر لوگ سارے جل رہے ہوں اپنی دوزخ میں
انہیں کیا خاک سمجھائیں کہ کتنی ہے بری دوزخ

0
11
دشمن ہے تیرے سامنے رسمِ دعا سمیٹ
اے ذوالفقار کے امیں ہمت ذرا سمیٹ
طوفان اپنے وقت سے پہلے نہ جائے گا
جب تک شدید ہے ہوا اپنا دیا سمیٹ
میں دے رہا ہوں مشورہ اپنے غنیم کو
لڑنے کا حوصلہ نہیں اپنی زرہ سمیٹ

0
8
اس عہدِ نارسا میں ہے کارِ وفا عبث
جینے کی دوڑ دھوپ میں مرنا ہوا عبث
بلوے خدا کے واسطے جنگیں بنامِ امن
خوفِ خدا نہیں ہے تو نامِ خدا عبث
ظلم و ستم کے واسطے پیدا ہوئے ہیں آپ
راز و نیاز کس لئے ناز و ادا عبث

0
12
مجھے بنایا گیا ہے جہان کا وارث
زمیں سے تابہ نظر آسمان کا وارث
سند ملی ہے خلافت کی امتیاز کے ساتھ
فقط نہیں ہوں  میں نام و نشان کا وارث
نکل کے باغ ارم سے اداس رہتا ہوں
یہ عکس جس کا ہے، ہوں اس مکان کا وارث

0
14
مناسب نہیں رات دن غم کی بات
کریں آج خوش رنگ عالم کی بات
بہت گریہ زاری سے جی بھر گیا
تو کرتے ہیں شیریں تبسم کی بات
گلوں پر  چمکتی ہے شبنم ابھی
ابھی روک لو آنکھ کے نم کی بات

13
سمایا جوہر خاکی میں آسماں کا  مزاج
زمیں سے  جانچ رہا ہے جو لامکاں کا  مزاج
ابھی معمہ ہیں تصویرِ کائنات کے رنگ
کھلا کہاں ہے  ابھی رازِ کن فکان کا  مزاج
بنائے کون و مکاں تو نے اپنی خواہش سے
ہمارے بس میں کہاں ہے ترے جہاں کا مزاج

0
10
عجیب تھا وہ کہ جس نے اپنے نحیف ہاتھوں
دہکتا سورج پکڑ کے میری زمین میں بہتے
پانیوں میں بصد عنایت نچوڑ ڈالا۔۔۔۔
۔
اسے یقین تھا
پگھلتے سورج کا نور ندیوں میں بہتے بہتے

0
13
حالات کے بگاڑ  کو کیسے ملے لگام
غنچے زبانِ خار میں کرنے لگے کلام
ہم نیک ہیں تو باعثِ تکریم کیوں نہ ہوں
تم نیک  ہو تو ٹھیک نہیں ہے یہ کیوں نظام
شوریدہ سر ہیں لائقِ جور و ستم ہیں ہم
پس کیجئے ہمارا کوئی سخت انتظام

0
10
رات کی گہری جپ میں ہے اک ہلکی آہٹ
سنتے سنتے سو جائیں گے دل کی میٹھی آہٹ
بادل ٹوٹ کے برسیں یا ہو طوفانوں کا شور
بیتے وقتوں کی خوشبو میں تیری یاد کی آہٹ
سنتی ہیں سب بوڑھی مائیں خود سے کوسوں دور
محنت کش بیٹوں کے قدموں کی تھکتی آہٹ

0
13
ناز افشین بن گئے ہیں آپ
وجہ تسکین بن گئے ہیں آپ
آپ کی یاد اور کوہ ندا
کتنے سنگین بن گئے ہیں آپ
ایک بے رنگ زندگی کے لئے
عکسِ رنگین بن گئے ہیں آپ

0
10
حصولِ جاہ و حشم تیری زندگی کا جواز
مری نظر میں برابر سبھی نشیب و فراز
یہاں پہ خلعت و دستار چھوڑ کر آؤ
یہاں کی رسم ہے سادہ لباسِ عجز و نیاز
تمام آمر و جابر بنے نشان اجل
حیات اشکِ رواں ہے حیات سوز و گداز

0
15
انہی کے داغ سب دھوئے ہوئے ہیں
جو اپنی ذات میں کھوئے ہوئے ہیں
قیامت بار ہا آتی رہی ہے
نہیں جاگے ابھی سوئے ہوئے ہیں
ہوا اعلان رقصِ آخری کا
یہ حضرت کیف میں کھوئے ہوئے ہیں

0
14
بھلا کیوں آپ  گھبرائے ہوئے ہیں
یہ قصے جھوٹ بنوائے  ہوئے ہیں
انہی کے ہاتھ سے اٹھیں فصیلیں
عمارت میں جو  چنوائے ہوئے ہیں
صلیبیں اگ رہی ہیں اس زمیں سے
قلندر جس میں دفنائے ہوئے ہیں

0
8
سانحہ اپنی تباہی کا نہیں ایسا عجیب
غیر کو اپنا سمجھنا تھا مرا اپنا نصیب
مجھ سے ملتا بھی ہے گرچہ ہے خفا مجھ سے بہت
دوستوں سے بھی  زیادہ  میرا  ہمدم ہے رقیب
میرے ارماں میری طاقت میری ہمت ہیں وہی
دور ہو کر بھی جو رہتے ہیں سدا دل کے قریب

0
10
یہ ہجرتوں کا تسلسل یہ شہرِ یار کی یاد
یہ ہم نفس کی جدائی یہ غم گسار کی یاد
طلوع صبح کی رنگین یاد باقی ہے
بڑی حسین ہے خوشبوئے لالہ زار کی یاد
گلی گلی میں درخشاں گئے دنوں کے نشاں
چمن چمن میں مہکتی جمالِ یار کی یاد

0
19
ڈرتے ہی رہو گے تم؟
کب تک یوں ڈرو گے تم؟
ڈرتے ہو بھلا کس سے؟
.
بجلی نے جو گرنا تھا
وہ گر بھی چکی تم پر

0
23
پھر بساط بچھتی ہے
اور مہرے سجتے ہیں
طبلِ جنگ کے بجتے ہی
صف آرا پیادوں کے
خون کھول اٹھتے ہیں
بے دھڑک جھپٹتے ہیں

0
21
دل کی حالت بدل گئی ہوگی
بات آگے نہ چل سکی ہوگی
پاس رہ کر نہ بات کر پائیں
ہائے کس کی نظر لگی ہوگی
دل میں شکوے زباں پہ تالے ہوں
بے بسی جیسی بے بسی ہوگی

0
15
جو بھی ہیں ان کے ساتھ بہت  بے نظیر ہیں
حسنین و  فاطمہ ہیں  امیرِ غدیر ہیں
اصحاب ان کے دیدہ وروں میں ہیں معتبر
مداح سارے آپ کے روشن ضمیر ہیں
تاریکیوں میں کھو گئے جو ان سے دور ہیں
جو دل جڑے ہیں ان سے بہت مستنیر ہیں

0
16
ان کی مسجد میں جب بھی آتے ہیں
باغِ جنت کا لطف پاتے ہیں
جو بھی لکھتے ہیں ان کی  مدحت میں
زیر لب آنسوؤں سے گاتے ہیں
جھولیاں بھر کے فیض سے ان کے
عرضیاں اور ڈال جاتے ہیں

0
6
ہر ایک شے ہے میسر مگر قرار نہیں
دلِ شکستہ کسی طرح رست گار نہیں
غمِ حیات کے انداز تو وہی ہیں مگر
تمہارے بعد مجھے خود پہ اعتبار نہیں
ہلاکتوں میں گھرا دور ہے تکاثر کا
کوئی فقیر نہیں کوئی خاکسار نہیں

0
14
جنوں کی آگ میں جلنا ہوا ہے کیوں لازم
کمالِ شوق میں مرنا ہوا ہے کیوں لازم
دہکنا حسنِ گلِ تازہ کی طرح لیکن
مثالِ کاہ سلگنا ہوا ہے کیوں لازم
شکستگی کی گرانی بجا سہی لیکن
خود اپنے سائے سے ڈرنا ہوا ہے کیوں لازم

0
26
کبھی آ کے دیکھو مری بے بسی کو
نہ جانو تصنع مری عاجزی کو
رقیبوں سے تم نے مرا حال پوچھا
میں کیا نام دوں اس نئی دلبری کو
تمنا رہائی کی بڑھتی ہی جائے
ترستی ہیں آنکھیں کھلی زندگی کو

0
9
یادوں کے میلے کی رونق اور فراغ ہے اپنا
یادوں کے جھرمٹ سے مہکا باغ ہے اپنا
چلتے چلتے اپنا رستہ بھول گئے ہم
کتنا دلکش جیون کا یہ راغ ہے اپنا
منصف کا اعلان کہ ہم سے جرم ہوا ہے
سورج سے بھی روشن تر یہ داغ ہے اپنا

0
8
اے سرابِ زندگی  ہم نہیں ہوں گے خجل
  تو ہے حاصلِ امل ، تو ہے داعئ اجل
 کون پڑھ رہا ہے آج، میری روح کی کتاب
کون میرے ہاتھ سے لکھ رہا ہے یہ غزل
 اپنی ذات ہے مری، یا میں کوئی عکس ہوں
 یہ معمۂ وجود،  کون کر سکا ہے حل

0
34
میرے دشمن تھے باوفا، کہہ دو
سارے قاتل ہیں پارسا، کہہ دو
سوچنا اور جاگتے رہنا
عارضہ ہے یہ لا دوا کہہ دو
ہم کو معلوم ہے کہ وہ کیا ہیں
تم انہیں لاکھ باصفا کہہ دو

0
17
کیا خوب جہاں میں ہوں وہ بھی وہیں ہے
وہ عرش نشیں ہے اور دل کا مکیں ہے
یہ بحث نہیں ہوگی،  جب ہوش نہیں
میں ہوں یا نہیں ہوں،  وہ ہے یا نہیں ہے

0
25
تھا اقتدار کا جنوں، لو بے حساب ہے
اب اس کے بعد  ایک مسلسل عذاب ہے
کس مصلحت سے بٹ گئے ہیں اختیار سب
انصاف بے مثال ہے اور لاجواب ہے
ساقی تمہارے میکدے میں دلکشی نہیں
سب جام بدنما ہیں پرانی شراب ہے

0
27
یہ ظلم ہے ، ستم ہے یا محض سانحہ ہے
خاکی کو اپنے ہاتھوں نوری بنا دیا ہے
اسلام سے مشرف جمہوریت ہے اپنی
ستائیسویں پہ اپنا، چالیسواں رکھا ہے

0
14
دلکش ہو کسی شعرِ سنائی جیسی
زلفوں کی گھٹا چاند پہ چھائی جیسی
اے ماہِ شب تاب جدائی ہے تری
سنجیدہ و پر درد رباعی جیسی

0
28
عقل کو راہ دکھائیں گے ذرا دیر کے بعد
آتشِ دل کو بجھائیں گے ذرا دیر کے بعد
ایک نایافت کا غم جسے دل بھول گیا
پھر اسے یاد دلائیں گے ذرا دیر کے بعد
قصۂ درد بہت دیر دبائے رکھا
سلسلہ وار سنائیں گے ذرا دیر کے بعد

0
26
جذبات کو قرینۂ اظہار چاہئے
حسنِ بیان و خوبئ گفتار چاہئے
لیں آگئے ہیں آپ کے دربار میں غلام
پھر روشنی اے سیدِ انوار چاہیے
زادِ سفر سبھی نے بہم کر لیا مگر
اب قافلے کو قافلہ سالار چاہیے

0
21
سایہ نہ دے سکا اور  جس پر ثمر نہیں
ہے استخوانِ چوبِ خستہ، شجر نہیں
ہم مطمئن  ہیں عہدِ  پارینہ توڑ کر
ہر چند عہدِ نو کی کوئی خبر نہیں
گو یہ دیار کل سے  بڑھ کر حسین ہے
صد حیف اب تمیزِ عیب و ہنر نہیں

0
28
سرحدیں توڑ کے ہر سمت ہے پھیلا پانی
کون کہتا تھا نہ دے گا ہمیں قطرہ پانی
ایک پانی کے کئی رنگ کئی روپ بنے
کہیں راوی، کہیں گنگا کہیں جمنا پانی
رہگزر اس کی تھی جس پر ہوئے قابض انساں
ہم جسے بھول گئے وہ نہیں بھولا پانی

1
29
میں وہ شجر توانا ہوں جو اس صحرائے سورج سوختہ میں  سر اٹھائے استقلال سے تن کر کھڑا ہے
(صحرائے سورج سوختہ جس میں پیاسے سانپ پلتے ہیں)
میں وہ شجر توانا ہوں کہ جس پر آگ کی بارش برستی ہے
جس کی گھنی شاخوں پہ آسمانی بجلیاں ہر دم کڑکتی ہیں
جسے وحشی بگولے تنکا تنکا منتشر کرنے کی خاطر سر پٹکتے ہیں
میں وہ شجر توانا ہوں، جس کی میٹھی چھاؤں کتنی ذی نفس روحوں کی جنت ہے

0
30
امن کی بات جہاں رسمِ اضافی ہوگی
خون ریزی کی بھلا کیسے معافی ہوگی
کاٹ لی مرگِ مفاجات کی صورت میں سزا
اب مرے جرمِ ضعیفی کی تلافی ہوگی
زخم خوردہ ہیں سبھی پھول مرے گلشن کے
اب مرا تیر تری سینہ شگافی ہوگی

0
21
جانتا ہوں مرے کوچے کی روایت کیا ہے
ابنِ منصور کی، سرمد کی حکایت کیا ہے
خواب بنتا ہوں میں ایسے جو مکمل ہی نہ ہوں
کون بتلائے تمنا کی نہایت کیا ہے؟
سوچنا کار مشقت ہے تھکا دیتا ہے
خوش خیالی کی رعایت بھی رعایت کیا ہے

0
31
زمانہ اپنی روش پر رواں ہے کیا کہیے
جمالِ یار جواں تھا جواں ہے کیا کہیے
کہیں برستی ہے بارش زر و جواہر کی
کہیں پہ شعلہ فشاں آسماں ہے کیا کہیے
الٰہی یہ بھی کوئی فتنہ و دجل تو نہیں
رقیب آج مرا ترجماں ہے کیا کہیے

0
20
غم کا تحفہ عطا کیا ہے اس کو
اپنا عاشق بنا لیا ہے اس کو
جو تھا بیزار شاعری کے فن سے
رونا یہ بھی لگا دیا ہےاس کو

0
19
غم کا تحفہ عطا کیا اس کو
اپنا عاشق بنا لیا اس کو
تھا جو بیزار شاعری سے کبھی
رونا یہ بھی لگا دیا اس کو

0
27
جھوٹ گھڑتے ہو کچھ ایسے کہ دکھا بھی نہ سکو
زخم کھاتے ہو پھر ایسے کہ چھپا بھی نہ سکو
لوگ کہتے ہیں کہ آتش زنی ہے شیوہ ترا
آگ بھڑکائی ہے کیوں جس کو بجھا بھی نہ سکو
بھول جانا تری عادت ہے مگر یاد رہے
گھاؤ لگ جائیں گے ایسے کہ بھلا بھی نہ سکو

0
19
ماضی کی روایات کو دہراتے رہو
زخموں کو یونہی پیار سے سہلاتے رہو
مسدود رہیں ذہن کے تاریک روش
آزادئ افکار سے کتراتے رہو

1
16
قصۂ عشق بھلا کیسے کہوں ختم ہوا
کھیل سب ختم ہوا کارِ فسوں ختم ہوا
برملا ختم ہوئے سارے تعلق یہ نہ پوچھ
وہ کہاں ختم ہوا اور یہ کیوں ختم ہوا
مل گئیں منزلیں ایسی جنہیں چاہا بھی نہ تھا
آہ اب کوششِ پیہم کا جنوں ختم ہوا

19
بے نیازی کی نظر ہے فاصلہ
کتنا ظالم بے خبر ہے فاصلہ
کارواں میں کون تھے اور کیا ہوئے
رہ گیا جو ہم سفر ہے فاصلہ
رہبروں اور رہزنوں کے درمیاں
ہر طرف ہی منتشر ہے فاصلہ

0
33
جو بے نیازِ دید ہو اس سے حجاب کیا
گریہ ہی جس کی عید ہو اس پر عذاب کیا
توڑے ہوں اپنے ہاتھ سے جس نے سبو تمام
اس کی نظر میں جام کیا اور شراب کیا
سب نسبتیں غرور کی پامال ہو گئیں
کیا پوچھتے ہو میرا نسب کیا نصاب کیا

0
28
خورشیدِ درخشاں جو منور تھا جہاں میں
اب اس کی چمک سے ہیں دمکتے یہ ستارے
استاد تو مل جاتے ہیں ہر گام پہ لیکن
نایاب وہ گوہر ہے جو تقدیر سنوارے
اللہ سلامت رہے یہ بزمِ کواکب
خورشید کے ہمراہ ہوں جنت میں بھی سارے

0
27
حالتِ زار بدل جائے یہ امکاں تو نہیں
یہ مرا وہم ہے اللہ کا فرماں تو نہیں
رونقیں لوٹ ہی آئیں گی چمن میں اک دن
خزاں کی زد میں یہ گلشن ابھی ویراں تو نہیں
پھر اٹھا ہے جو یہ لشکر مرے خیموں کی طرف
یہ بگولہ ہے کوئی نوح کا طوفاں تو نہیں

0
31
عسرت میں امیری کا بھرم اور کہاں تک
یہ مرتبہ و جاہ و حشم اور کہاں تک
لاشوں سے سجے دیر و حرم اور کہاں تک
اے گردشِ دوراں یہ ستم اور کہاں تک
گرتے ہوئے مظلوم سبھی پوچھ رہے ہیں
ظالم پہ ترے لطف و کرم اور کہاں تک

36
مخلوق میں ہے کون جومحبوب نہیں
دکھ سب کے اٹھانا ہمیں معیوب نہیں
الزامِ بغاوت تو رہا سر پہ مگر
غداری کوئی ہم سے منسوب نہیں

0
25
خود راہ سے بھٹکے پہ ندامت نہ ہوئی
رسوا ہوئے ہر جا پہ ملامت نہ ہوئی
سو بار گرے پھر سے اٹھے ، اٹھ کے گرے
بس اس کی رضا ہے جو قیامت نہ ہوئی

0
34
حالات کی گردش سے کھائی نہ شکست
دیوانے رہا کرتے ہیں اس آس پہ مست
تو رب ہے ہمیں پالنا ہے کام ترا
ہم کیسے بھلادیں تیرا پیمانِ الست

0
25
درود ان پہ بصد احترام کَرتے ہیں
ہمارےنام جو لکھا ہے کام کرتے ہیں
جہاں میں بانٹتے رہتے ہیں عشق کا سودا
انہی کے فیض سے یہ فیض عام کرتے ہیں
مرے کریم سے سیکھے سبھی نے رازِ حیات
اسی لئے تو سبھی احترام کرتے ہیں

0
37
جب بھی ذکرِ رسول ہوتا ہے
رحمتوں کا نزول ہوتا ہے
باریابی سبھی کو ملتی ہے
آنا سب کا قبول ہوتا ہے
سب زمانے انہی کی خاطر ہیں
جن کا فرماں اصول ہوتا ہے

2
86
شامل جو ان کے ذکر میں احباب ہو گئے
وافر نشاط روح کے اسباب ہو گئے
جب بھی لیا کسی نے محبت سے ان کا نام
مصروفِ رقص منبر و محراب ہو گئے
ہم کو وفور شوق نے بخشی وہ مستیاں
بے خود ہوئے، بے دم ہوئے، بےتاب ہو گئے

45
مجھے نظر کی زکوٰۃ دے کر مرے جنوں کو وہ بات دیدے
مجھے غموں سے رہائی دیکر مجھے دکھوں سے نجات دیدے
مرے خیالوں کی ساری راہیں الجھ الجھ کر بکھر رہی ہیں
نکال دے اس بھنور سے کشتی، سکون دیدے ثبات دیدے
ترا تصور ہی روز و شب کے تمام لمحوں کو فتح کر لے
مرے دنوں میں یہ دن بسا دے مری شبوں کو یہ رات دیدے

1
41
کن شعاعوں کو تراشوں جو بنے وہ پیکر
میرے الفاظ نحیف اور سخن بھی ابتر
ایک وہ غار حرا ایک یہ دل ہے میرا
کس کی توقیر ہے کیا میں یہ بتاؤں کیونکر
تیری نسبت کے سوا میرا ہنر اور ہے کیا؟
میں نے ہر اوج پہ رک کر یہی سوچا اکثر

0
33
ہزاروں خواب ٹوٹے ہیں ہزاروں دل دکھائے ہیں
جو کانٹے مل کے بوئے تھے انہی کے زخم کھائے ہیں
جہاں بادل برستے تھے گھنے پیڑوں کے سائے تھے
اسی بستی  کے اوپر گرد کے طوفان چھائے ہیں
کسی حاکم کو رک کر ایک دن یہ سوچنا ہوگا
کہ انسانوں کے حلیے میں درندے کیسے آئے ہیں

0
36
کمالِ شوق نے بخشا ہے ذوقِ رعنائی
اسی کے دم سے میسر ہے حسن و زیبائی
مجھے قبول تھا رسوا کریں عدو لیکن
انہیں قبول نہ تھی میری شان رسوائی
بسا یہ جبر کہ ہم محفلوں میں قید رہیں
زہے نصیب کہ باقی ہے ذوق تنہائی

0
51
یہ کرشمہ بھی کوئی صاحبِ ارشاد کرے
رہنمائی کو نئی روشنی ایجاد کرے
مرے مالک کی یہ مرضی ہے کہ اس عہد میں وہ
روح کو قید کرے ذہن کو آزاد کرے
کھل اٹھی مردہ زمیں بارش و سیلاب کے بعد
یہ ضروری نہیں طوفاں ہمیں برباد کرے

0
75
منہ زور جو وبا ہے مانندِ فیلِ مست
 بکھری ہوئی قضا ہے ہر جا چہار سمت
 سالِ گزشتہ اپنی دہشت لیے ہوئے
زیرِ نقاب آمد ، زیرِ نقاب رفت

32
تمہیں خبر ہے گنوایا کہاں گہر دل کا
 سراغ ڈھونڈتے پھرتے ہو دربدر دل کا
نہ اس کی بات سنی اور نہ معذرت چاہی
یہ قرض ہم پہ رہا یونہی عمر بھر دل کا
مرے خمیر کی مٹی میں کچھ فساد رہا
بنا سکا نہ جسے کچھ بھی کوزہ گر دل کا

38
دھیرے دھیرے آ جاتا ہے دم میں اپنا دم
رنج و غم میں سکھ دیتا ہے تیرا میٹھا غم
جن کا جینا مرنا تیرے درشن کی ہو دین
خوش رہتے ہیں دید پہ تیری بیش ملے یا کم

24
روشنی بن کے کوئی یاد پرانی آئی
دل کے آنگن میں نئی صبح سہانی آئی
لاکھ سوچا کہ سبھی کہہ دیں مگر کہہ نہ سکے
گفتنی بات بھی  ہم کو نہ بتانی آئی
دولتِ غم کو چھپانا کوئی سیکھے ہم سے
دولتِ عشق کبھی بھی نہ چھپانی آئی

0
68
درد سہتے رہو قیامت تک
آہ بھرتے رہو قیامت تک
بندگی میں نہ کچھ خلل آئے
یونہی ڈرتے رہو قیامت تک
جن خداؤں کو خود تراشا ہے
ان کے بندے بنو قیامت تک

0
28
آپ نے دل میں آ کے حد کر دی
ہم نے آنسو بہا کے حد کر دی
بات دل کی نہ رہ سکی دل میں
ہم نے غزلیں سنا کے حد کر دی
وہ بہت خوش تھے اپنی حالت پر
ہم نے شیشہ دکھا کے حد کر دی

1
37
مہرباں کون ہے دیتا ہے جو مال و منال
کیسے پایا ہے زمانے میں یہ اوج و کمال
ہم کہ ہیں صاحبِ عز و شرف جاہ و جلال
کون کر سکتا ہے ہم سے بھلا ایسے سوال

0
24