گلے ملنا ابھی ممکن کہاں ہے
گلوں شکووں کی لمبی داستاں ہے
بہار آئی مگر مہکی نہ کلیاں
ابھی گلشن میں نفرت کا دھواں ہے
یہاں سے دور منزل ہے ہماری
یہ رستہ امتحاں در امتحاں ہے
قیامت توڑتے ہو میرے دل پر
سنبھل جاؤ کسی کا آستاں ہے
مرے ناقد بھی یہ کہنے لگے ہیں
زمانے میں  مرا سکہ رواں ہے
بڑی مہلک ہے تیری دل نوازی
بھلا یہ راز اب کس سے نہاں ہے
نسب نامے بیاں کرتی ہیں جنگیں
فلاں ابنِ فلاں ابنِ فلاں ہے

0
5