سمایا جوہر خاکی میں آسماں کا  مزاج
زمیں سے  جانچ رہا ہے جو لامکاں کا  مزاج
ابھی معمہ ہیں تصویرِ کائنات کے رنگ
کھلا کہاں ہے  ابھی رازِ کن فکان کا  مزاج
بنائے کون و مکاں تو نے اپنی خواہش سے
ہمارے بس میں کہاں ہے ترے جہاں کا مزاج
بڑے وثوق سے بخشا وظیفہ نائب کا
نہیں عجیب جو تیکھا ہے ترجماں کا مزاج
الٰہی دشت جنوں میں مرا  قدم تو نہیں
بدل رہا ہے اچانک مرے بیاں کا مزاج

0
7