عجیب تھا وہ کہ جس نے اپنے نحیف ہاتھوں
دہکتا سورج پکڑ کے میری زمین میں بہتے
پانیوں میں بصد عنایت نچوڑ ڈالا۔۔۔۔
۔
اسے یقین تھا
پگھلتے سورج کا نور ندیوں میں بہتے بہتے
زمین کے اندھے خار و خس کو بینائی دے گا
گلی محلوں کے کچے پکے، مور خوردہ
مکان اس روشنی میں دھل کر
چمک اٹھیں گے
۔
اسے گمان تک نہیں تھا اس کے یہاں سے جاتے ہی اس زمیں پر
کروڑوں عفریت پل پڑیں گے
سیاہ نفس، عفریت سورج کو گل کریں گے
زمیں کے پر نور پانیوں کو پرائی ندیوں میں موڑ دیں گے
بنا کہ اونچے بند ہم کو روشنی سے جدا رکھیں  گے
۔
اسے گماں تک نہیں تھا اس کی اندھیر نگری
قرن قرن سے خبیث روحوں کی راہگزر  ہے
یہاں کے لوگوں نے اپنے سینے سیاہیوں سے بھر لیے ہیں
انہیں ابھی آگہی کی کوئی طلب نہیں ہے
انہیں ابھی روشنی سے کوئی غرض نہیں ہے

0
5