یہ ہجرتوں کا تسلسل یہ شہرِ یار کی یاد
یہ ہم نفس کی جدائی یہ غم گسار کی یاد
طلوع صبح کی رنگین یاد باقی ہے
بڑی حسین ہے خوشبوئے لالہ زار کی یاد
گلی گلی میں درخشاں گئے دنوں کے نشاں
چمن چمن میں مہکتی جمال یار کی یاد
اسی کی یاد سے روشن دیے امیدوں کے
خزاں کے غم کا مداوا گئی بہار کی یاد
میں چل پڑوں تو مرے ساتھ ساتھ  چلتی ہے
ٹھہر سکوں تو ٹھہر جائے انتظار کی یاد
ترے فراق میں آتی ہے بام و در سے یہاں
ترے کلام کی خوشبو ترے شعار کی یاد
یہی کمال مری جستجو کا حاصل ہے
کبھی کبار کا ملنا ہزار بار کی یاد

0
7