| یادوں کے میلے کی رونق اور فراغ ہے اپنا |
| اس جھرمٹ کے کونے میں اک باغ ہے اپنا |
| چلتے چلتے اپنا رستہ بھول گئے ہم |
| کتنا دلکش جیون کا یہ راغ ہے اپنا |
| منصف کا اعلان کہ ہم سے جرم ہوا ہے |
| سورج سے بھی روشن تر یہ داغ ہے اپنا |
| اک دوجے کو کھو کر پایا، پا کر کھویا |
| دل کو چھوڑا، ہم ہیں اور دماغ ہے اپنا |
| کھولے ہوشِ مصنوعی نے بھید سبھی کے |
| جھوٹ کی خاطر قائم سب ابلاغ ہے اپنا |
| جنت کے دروازے پر یہ سوچ رہا ہوں |
| یہ تو دیکھا بھالا ، کھویا، باغ ہے اپنا |
معلومات