| اے سرابِ زندگی ہم نہیں ہوں گے خجل |
| تو ہے حاصلِ امل ، تو ہے داعئ اجل |
| کون پڑھ رہا ہے آج، میری روح کی کتاب |
| کون میرے ہاتھ سے لکھ رہا ہے یہ غزل |
| اپنی ذات ہے مری، یا میں کوئی عکس ہوں |
| یہ معمۂ وجود، کون کر سکا ہے حل |
| سوچ کر چلیں گے ہم، چال کوئی دلنشیں |
| اے بساطِ زندگی، ایک پل بس ایک پل |
| سجدہ میں کروں تو کیوں، آدمی کے سامنے؟ |
| میں فرشتہ تو نہیں ، اے خدائے لم یزل |
| جشن اٹھ کے جانے کا، کیوں بپا ہے چار سو |
| کب میں اپنے آپ کو، مانتا تھا بے بدل |
| حجرۂ وجود میں، زندگی اسی سے تھی |
| اس نے آنکھ بند کی، جان ہی گئی نکل |
معلومات