| چشمِ ویراں میں ابر و بار آیا |
| بے قراری کو کچھ قرار آیا |
| درد اٹھا تو بے پناہ اٹھا |
| رنج آیا تو بے شمار آیا |
| اس جہانِ خراب میں اب تک |
| دورِ ظلمت ہی بار بار آیا |
| کوئی رخصت ہوا نہ مرضی سے |
| جو بھی آیا وہ اشکبار آیا |
| آپ کی ذات کا سہارا تھا |
| آپ تک جو یہ خاکسار آیا |
| آپ کی یاد غم گسار رہی |
| آپ کا ذکر مشک بار آیا |
| دوستوں کو دعائیں دیتے ہیں |
| جن کا ہونا ہی سازگار آیا |
| لوگ کہتے ہیں حوصلہ رکھئے |
| لیجئے اس پہ اعتبار آیا |
معلومات