چشمِ ویراں میں ابر و بار آیا
بے قراری کو کچھ قرار آیا
درد اٹھا تو بے پناہ اٹھا
رنج آیا تو بے شمار آیا
اس جہانِ خراب میں اب تک
دورِ ظلمت ہی بار بار آیا
کوئی رخصت ہوا نہ مرضی سے
جو بھی آیا وہ اشکبار آیا
آپ کی ذات کا سہارا تھا
آپ تک جو یہ خاکسار آیا
آپ کی یاد غم گسار رہی
آپ کا ذکر مشک بار آیا
دوستوں کو دعائیں دیتے ہیں
جن کا ہونا ہی سازگار آیا
لوگ کہتے ہیں حوصلہ رکھئے
لیجئے  اس پہ اعتبار آیا

0
9