حالات کے بگاڑ  کو کیسے ملے لگام
غنچے زبانِ خار میں کرنے لگے کلام
ہم نیک ہیں تو باعثِ تکریم کیوں نہ ہوں
تم نیک  ہو تو ٹھیک نہیں ہے یہ کیوں نظام
شوریدہ سر ہیں لائقِ جور و ستم ہیں ہم
پس کیجئے ہمارا کوئی سخت انتظام
دعویٰ نہیں حضور کوئی پارسائی کا
رکھتے ہیں یاد حاکمِ اعلیٰ کو صبح شام
جو قصرِ پر شکوہ ہے لاشوں پہ استوار
ہونے لگا ہے اس کا کسی وقت انہدام

0
6