مجھے خبر ہے گنوایا کہاں گہر دل کا
 سراغ ڈھونڈتا رہتا ہوں دربدر دل کا
نہ اس کی بات سنی اور نہ معذرت چاہی
یہ قرض میں نے اٹھایا ہے عمر بھر دل کا
مرے خمیر کی مٹی میں کچھ فساد رہا
بنا سکا نہ جسے کچھ بھی کوزہ گر دل کا
یہ عمر و دولت و ناموس کا خسارا ہے
بنا ہے دوست کوئی جب بھی بھول کر دل کا
یہ اور بات کہ منزل مرا نصیب نہ تھی
رہا ہوں میں بھی بہت دیر ہم سفر دل کا

57