حصولِ جاہ و حشم تیری زندگی کا جواز
مری نظر میں برابر سبھی نشیب و فراز
یہاں پہ خلعت و دستار چھوڑ کر آؤ
یہاں کی رسم ہے سادہ لباسِ عجز و نیاز
تمام آمر و جابر بنے نشان اجل
حیات اشکِ رواں ہے حیات سوز و گداز
ہزار گنبد و محراب فیض سے خالی
ہزار ٹوٹے گھروندے پناہِ ذرہ نواز
کوئی نظیر نہیں ہے موازنے کے لئے
کہاں امیرِ دمشق اور کہاں غریبِ حجاز

0
24