| کبھی آ کے دیکھو مری بے بسی کو |
| نہ جانو تصنع مری عاجزی کو |
| رقیبوں سے تم نے مرا حال پوچھا |
| میں کیا نام دوں اس نئی دلبری کو |
| تمنا رہائی کی بڑھتی ہی جائے |
| ترستی ہیں آنکھیں کھلی زندگی کو |
| اجڑنے پہ شہرِ تمنا نہیں غم |
| امیدوں کے صحرا ہیں آوارگی کو |
| چمن پر خزاں کی ہوئی پہرہ داری |
| جہنم میں ڈالوں میں اس آشتی کو |
| کٹھن تو بہت ہے اندھیروں سے لڑنا |
| بہت جی جلایا مگر روشنی کو |
| وہ کب کے یہاں سے چلے بھی گئے ہیں |
| میں اب تک کھڑا ہوں وہیں حاضری کو |
معلومات