کبھی آ کے دیکھو مری بے بسی کو
نہ جانو تصنع مری عاجزی کو
رقیبوں سے تم نے مرا حال پوچھا
میں کیا نام دوں اس نئی دلبری کو
تمنا رہائی کی بڑھتی ہی جائے
ترستی ہیں آنکھیں کھلی زندگی کو
اجڑنے پہ شہرِ تمنا نہیں غم
امیدوں کے صحرا ہیں آوارگی کو
چمن پر خزاں کی ہوئی پہرہ داری
جہنم میں ڈالوں میں اس آشتی کو
کٹھن تو بہت ہے اندھیروں سے لڑنا
بہت جی جلایا مگر روشنی کو
وہ کب کے یہاں سے چلے بھی گئے ہیں
میں اب تک کھڑا ہوں وہیں حاضری کو

0
3