ہر ایک شے ہے میسر مگر قرار نہیں
دلِ شکستہ کسی طرح رست گار نہیں
غمِ حیات کے انداز تو وہی ہیں مگر
تمہارے بعد مجھے خود پہ اعتبار نہیں
ہلاکتوں میں گھرا دور ہے تکاثر کا
کوئی فقیر نہیں کوئی خاکسار نہیں
پرندے اور چمن ڈھونڈنے کو اڑنے لگے
وطن کی آب و ہوا جن کو سازگار نہیں
بہت ہے زعمِ خدائی تو نیند کو ترسو
ذرا سی اونگھ بھی شایانِ کردگار نہیں
غبارِ فکرِ پریشاں تھمے تو راہ ملے
وہی ہے ذہن رسا جس میں انتشار نہیں
کلی ہو پھول بنو، رنگ ہو تو قوسِ قزاح
وہ حسن کیا جو زمانے پہ آشکار نہیں

0
7