بے بس و مجبور ہوں ٹوٹا ہوا انسان ہوں
اے خدا تو نے کہا تھا میں تری پہچان ہوں
اتنی پیاری صورتیں  کتنی بھیانک ہوگئیں
آئینہ خانے میں آکر کس قدر حیران ہوں
چشم بند آنکھوں پہ ہیں، تالے پڑے ہیں نطق پر
میری حالت پوچھتے ہو بد تر از حیوان ہوں
چار دن کی زندگی کہتے چلے آئے ہیں لوگ
چار دن بھی اس مکاں میں عارضی مہمان ہوں
ہوشِ مصنوعی دکھائے گی مجھے کیا راستہ
میں جہانِ آب و گل میں اجنبی انجان ہوں
بے طلب بھیجا گیا ہوں اس جہاں کی سیر کو
کب پلٹنا ہے یہاں سے تابعِ فرمان ہوں
لوگ سمجھاتے رہے لیکن مجھے غم تھا عزیز
زندگی میں جیت کا سوچا نہیں نادان ہوں

0
3