ڈرتے ہی رہو گے تم؟
کب تک یوں ڈرو گے تم؟
ڈرتے ہو بھلا کس سے؟
.
بجلی نے جو گرنا تھا
وہ گر بھی چکی تم پر
جلنا تھا نشیمن نے
وہ خاک ہوا جل کر
جو رزق کا خرمن تھا
پامال ہوا اڑ کر
.
حالات سے ڈرتے تھے؟
اور خوف سے مرتے تھے؟
کیا خوف تھا دشمن کا؟
یا خوف تھا عسرت  کا؟
.
غربت میں توانا تھے
ثروت نے کیا بوجھل
اس بوجھ کے ملبے سے
اٹھنا بھی ہوا مشکل
بے دام امیدوں سے
کم زور ہوئی ہمت
اس کھیل تماشے میں
بے سود ہوئی قوت
بنیاد کی دیمک سے
بوسیدہ ہوئی ملت
.
اب روگ ہے کس نوع کا؟
اب خوف ہے کس شے کا؟
اٹھو گے کبھی بھی تم؟
اٹھو گے کبھی تو تم
ڈرتے ہی رہو گے تم
کب تک یوں ڈرو گے تم
ڈرتے ہو بھلا کس سے؟

0
31